اَلْحَرَمُ الْمَكِّيُّ الشَّرِيْف

مکۃ المکرمۃ

اسلام کا مقدس ترین شہر — جہاں خانہ کعبہ ہے، جہاں نبی ﷺ کی پیدائش ہوئی، اور جہاں سے قرآن کا نزول شروع ہوا

خانہ کعبہ (بیت اللہ)

اللہ تعالیٰ کا گھر، مسلمانوں کا قبلہ اور مسجدِ حرام کا مرکز۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اللہ کے حکم سے اس کی تعمیر کی۔ ہر طواف اسی مقدس عمارت کے گرد کیا جاتا ہے۔

زمین پر سب سے پہلا گھر جو عبادت کے لیے بنایا گیا — سورہ آل عمران: 96

حجرِ اسود

جنت سے اتارا گیا سیاہ پتھر جو خانہ کعبہ کے ایک کونے میں نصب ہے۔ طواف کا آغاز اور اختتام اسی کے سامنے سے ہوتا ہے۔ اس کا بوسہ یا اشارہ سنت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’یہ پتھر برف سے زیادہ سفید تھا، انسانوں کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔‘

مقامِ ابراہیم

وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی۔ آپ کے قدموں کے نشان آج بھی اس میں محفوظ ہیں۔ طواف کے بعد یہاں دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے۔

اللہ نے فرمایا: ’وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى‘ — سورہ بقرہ: 125

صفا و مروہ

دو پہاڑیاں جن کے درمیان حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل کے لیے پانی کی تلاش میں سات چکر لگائے۔ آج بھی ہر حاجی اور معتمر یہی سعی ادا کرتا ہے۔

اب یہ مسعیٰ مسجدِ حرام کے اندر ایئر کنڈیشنڈ راہداری میں شامل ہے۔

زم زم

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدموں سے جاری ہونے والا چشمہ۔ 4000 سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی وقفے کے بہہ رہا ہے۔ اسے ’سب سے بہتر پانی روئے زمین پر‘ کہا گیا ہے۔

حدیث: ’ماء زمزم لما شرب لہ‘ — زم زم اسی نیت کے مطابق فائدہ دیتا ہے جس کے لیے پیا جائے۔

غارِ حرا (جبلِ نور)

جبلِ نور کی چوٹی پر وہ غار جہاں نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلی وحی ’اقرأ‘ نازل ہوئی۔ مکہ سے تقریباً 4 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

نبی ﷺ یہاں نبوت سے پہلے کئی روز عبادت کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔

غارِ ثور

وہ غار جس میں نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہجرت کے سفر میں تین روز تک قیام پذیر رہے۔ مکہ مکرمہ سے جنوب میں جبلِ ثور پر واقع ہے۔

قرآن میں ذکر: ’ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ هُمَا فِی الْغَارِ‘ — سورہ توبہ: 40

میدانِ عرفات

مکہ سے تقریباً 20 کلومیٹر مشرق میں وسیع میدان جہاں 9 ذوالحجہ کو وقوف کیا جاتا ہے۔ یہاں جبلِ رحمت بھی ہے، جس پر نبی ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا۔

نبی ﷺ کا فرمان: ’الحج عرفہ‘ — حج تو عرفہ ہے۔

مزدلفہ اور منیٰ

مزدلفہ میں 9 کی شب گزاری اور رمی کے کنکر چننے ہوتے ہیں۔ منیٰ میں ایامِ تشریق کے دوران قیام، رمی جمرات اور قربانی ہوتی ہے۔

منیٰ کو ’خیموں کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

آدابِ حرم

  • • حرم میں داخل ہوتے وقت دایاں قدم پہلے رکھیں اور دعا پڑھیں۔
  • • خانہ کعبہ کی پہلی نظر پر دعا قبول ہوتی ہے — اپنی مہم دعائیں مانگیں۔
  • • ہر وقت ذکر، تلاوت اور دعا میں مشغول رہیں۔
  • • دوسرے زائرین کے ساتھ نرمی اور صبر سے پیش آئیں۔
  • • مسجدِ حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔
مدینہ منورہ دیکھیں